15 جون 2009 - 19:30

رہبر انقلاب اسلامی نے مراجع تقلید کی طرف سے عیدالفطر کے موقع پر سرکاری اعلان کی مخالفت جتانے سے گریز اور الگ سے سوموار کے روز نماز عید نہ پڑھانے کے سلسلے میں، مراجع عظام کا شکریہ ادا کیا.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی مطابق جمعرات کے روز فقہائے مجلس خبرگان سے خطاب کرتے ہوئے مراجع تقلید کی طرف سے عیدالفطر کے سلسلے میں سرکاری اعلان کی مخالفت جتانے سے گریز اور الگ سے سوموار کے روز نماز عید نہ پڑھانے کے سلسلے میں، ان (مراجع عظام) کا شکریہ ادا کیا اور ان کے اس عمل کو اہم قرار دیا.

یادرہے کہ رہبر انقلاب اسلامی کے دفتر نے 20 ستمبر کو عید کا چاند نظر آنے اور عیدسعید فطر کا اعلان کیا جبکہ حضرات آیات مكارم شیرازی، سیستانی، صافی گلپایگانی، وحید خراسانی اور موسوی اردبیلی جیسے کئی مراجع عظام نے 21 ستمبر کو عید فطر کا دن قرار دیا مگر ان میں سے کسی نے بھی 21 ستمبر کو الگ سے عید کی نماز نہیں پڑھائی؛ جس کے جواب میں رہبر انقلاب اسلامی نے ان کے اس عمل کو بہت عظیم اور قابل قدر قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا.

حضرت آیت‏اللہ خامنہ‏ای نے فرمایا: "میری رائے یہ ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ عید فطر کے بارے میں سب کی رائے یکسان ہو اور سب ایک ہی روز عید فطر کے حلول پر یقین حاصل کریں اور سارے فقہاء ایک فتوے پر متفق ہوجائیں. ممکن ہے کسی فقیہ کی رائے مختلف ہو چنانچہ اس طرح اختلاف پیدا ہوگا؛ ہمیں اس اختلاف کو بڑھا چڑھا کر نہیں پیش کرنا چاہئے. اس طرح کے اختلاف میں حرج کیا ہے کہ کسی فقیہ کا اپنا فتوی ہو اور اس فقیہ کے مقلدین ہوں یا نہ ہوں اور وہ فقیہ اپنے فتوے پر عمل کرے؟".

رہبر معظم نے فرمایا: "البتہ اس سال بھی آپ نے دیکھا کہ بعض بزرگوں اور محترم شخصیات اور مراجع عظام کی رائے مختلف تھی مگر انہوں نے اپنی اس مخالفت کا اظہار نہیں کیا اور ان کی طرف سے یہ مخالفت نہیں جتائی گئی؛ آپ سب نے دیکھا. یہ بہت اہم بات ہے؛ یہ بہت عظیم ہے ان مراجع تقلید کا شکریہ ادا کرنا چاہئے؛ ایسا نہیں تھا کہ ایک نماز عید اتوار کو برپا ہوئی ہو اور ایک نماز عید مثلا اصفہان، مشہد یا تہران میں یا کہیں اور سوموار کے روز برپا ہوئی ہو؛ ایسا ہرگز نہیں ہوا اور یہ بہت اہم بات ہے".

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: "جی ہاں، جیسا کہ ہمیشہ سے مجھے یقین ہے کہ مراجع عظام نظام اسلامی کے مفادات اور اس کے اصولوں کے بہت زیادہ پابند ہیں اور ان پر پورا پورا عقیدہ رکھتے ہیں اور یقیناً اس امر کی قدردانی ہونی چاہئے اور شکریہ ادا کرنا چاہئے.

میں ان بزرگوں اور عظیم شخصیات کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کا فتوی میری رائے سے مختلف تھا تاہم انہوں نے اپنی مخالفت کا اظہار نہیں کیا یہ بہت اہم بات ہے.

ہاں البتہ ممکن ہے کہ دشمن ایک چھوٹی سے بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں اور اس کو جنجال اور نزاع میں تبدیل کردیں اور شور مچادیں مگر ہم دشمن کے نغموں کے پیروکار تو نہیں ہیں".